Total Pages Published شائع شدہ صفحات


Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click "How to Enjoy this Web Book"

Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click  "How to Enjoy this Web Book"
How to Enjoy this Web Book - Click Above ... اس ویب کتاب سے لطف کیسے اٹھائیں - اوپر کلک کریں

Amazon in association with JUSTUJU presents

English Translations

Webfetti.com

Please Click above for Akhgar Poetry in English

Sunday, August 30, 2009

ڈاکٹر پیرزادہ قاسم: عشق رسول کی روشنی [خلق مجسم]۔





ڈاکٹر پیرزادہ قاسمؔ

وائس چانسلر، فیڈرل اردو یونی ورسٹی، کراچی

فروری 2003ء ۔[حالیہ وائس چانسلر، کراچی یونی ورسٹی]۔



عشقِ رسولؐ کی روشنی


جناب حنیف اخگرؔ ملیح آبادی، ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے لیے معروف و معتبر[ شخصیت] سمجھے جاتے ہیں۔ اقوامِ مُتّحدہ کےدفاتر میں انہوں نے اہم ذمّہ داریاں احسن طریقے سے نبھائی ہیں۔ ایک لمبی مُدّت سے نیویارک میں مُقیم ہیں،ا ور شمالی امریکہ کی ادبی فضا کو بنانے اور سنوارنے میں اُن کی خدمات گرانقدر اور قابلِ تحسین ہیں۔ مگر ان تمام احوال اور آثار کے ساتھ حضرت حنیف اخگرؔ کی سب سے اہم خصوصیات میں مشرقی روایات سے غیر مشروط محبّت اور شاعری سے عشق نُمایا ں ہے۔


پھر یہ بھی کہ انہوں نے اپنی تربیتِ ذات کچھ اس طرح کی ہے کہ اس میں اسلامی ثقافت ک پوری پاسداری اور سب سے بڑھ کر عشقِ رسولﷺ کی روشنی انہیں اپنے ہم عصروں میں اہم اور معتبر بنائے ہوئے ہے۔ غزلوں کے دو نہایت خوبصورت اور وقیع مجموعہ ہائے کلام کے بعد، جنہیں، بہت پذیرائی حاصل ہوئی، اب حضرت حنیف اخگرؔ اپنے نعتیہ کلام کا مجموعہ 'خلقِ مُجسّم' کے عنوان سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس مجموعہء سُخن میں جو گُلہائے عقیدت پیش کیے گئے ہیں ان کی تخلیق اور توفیق عشقِ رسولؐ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔


حضرت حنیف اخگرؔ کی تمام نعتوں میں نبیء کریمؐ سے ایک والہانہ جذبہء عقیدت و محبّت اپنے تمام روشن اور تابناک پہلوؤں کے ساتھ جلوہ نمائی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور یہ سب کچھ خُدائے بزرگ و برتر کی عطائے خاص ہے، جس کی تمنّا وہ حمدِ ربِّ جلیل میں یوں کرتے نظر آتے ہیں؂


تو مجھے اپنی تمنّا کی عطا کر توفیق

اور مری عرضِ تمنّا کو پذیرائی دے


اُن کی خوش نصیبی ہے کہ انہیں یہ توفیق نصیب ہوئی، اور ان کی تمنّا کو پذیرائی بھی ملی۔ اور یوں وہ اس سعادت سے بہرہ مند ہوسکے کہ حرفِ نعت لکھیں، اور عشقِ رسولؐ کو اپنی فکر کا محور بنائے رکھیں۔ ان کے نعتیہ اشعار پر نظر ڈالیے؂



میں ایسے اسمِ محمّد ؐ لکھوں کہ اس کے بعد

یہ میرا صفحہء ہستی تمام ہوجائے


ساعتِ مرگ سے محشر کی گھڑی تک ان کو

لبِ خاموش کے لہجے میں پکارا کرنا


دل مرا بے بساط تھا ایک دیا بجھا ہوا

نعت سنی تو جل اٹھا ایک دیا بجھا ہوا


جنّت ہے یہیں موت ہے برحق تو ہم اُٹھ کر

سرکارؐ کی دہلیز سے جائیں بھی کہاں اور


اس طرف شہرِ نبیؐ ہے اس طرف خلدِ بریں

جائیں گے لیکن اِدھر ہوکر اُدھر جائیں گے ہم


دمِ آخر تھی جو صورت سرِ محشر ہے وہی

لب پہ تھی نعتِ نبیؐ نعتِ نبیؐ ہے اب بھی


حضرت حنیف اخگرؔ کی نعت کے یہ اشعار میری اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبیء کریمؐ سے اپنی محبّت و عقیدت کو ایک ارفع اور نفیس ترین اظہار کے ساتھ شعر کے قالب میں ڈھالا ہے۔ ان کی نعتیں حُسنِ عقیدت، بہترین لفظی انتخاب،ا ور نغمگی، غرض تمام ظاہری خوبیوں سے مُرصّع ہیں۔ ایسی خوبصورت نعتیں کہہ کر وہ خوب بھی یقیناً اس احساسِ آسودگی اور طمانیتِ قلب سے معمور ہوئے ہوں گے جو کم کم نصیب ہوتی ہے۔


ان کے اس نعتیہ شعر نے مجھے خاص طور پر متاءثر کیا، کہ یہ حنیف اخگرؔ صاحب کی شخصیت، فنّی مہارت، اور عشقِ رسولﷺؐ سے مُکمّل وابستگی کی دلیل ہے۔۔


بحرِ توصیفِ مُحمّدہی کی اک موج ہوں میں

موج بھی ایسی کہ طوفان ہیں ساحل میرے


مُجھے اُمّید ہے کہ ان کے اس مجموعہء نعت کو پذیرائی اور دائمی مقبولیت نصیب ہوگی۔


٭




No comments:

Site Design and Content Management by: Justuju Media

Site Design and Content Management by: Justuju Media
Literary Agents & Biographers: The Legend of Akhgars Project.- Click Logo for more OR eMail: Justujumedia@gmail.com