Total Pages Published شائع شدہ صفحات


Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click "How to Enjoy this Web Book"

Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click  "How to Enjoy this Web Book"
How to Enjoy this Web Book - Click Above ... اس ویب کتاب سے لطف کیسے اٹھائیں - اوپر کلک کریں

Amazon in association with JUSTUJU presents

English Translations

Webfetti.com

Please Click above for Akhgar Poetry in English

Sunday, August 9, 2009

جمیل جالبی ڈاکٹر: پیش لفظ خیاباں


فنّی اعتبار سے حنیف اخگرؔ کے ہاں ایک صورت یہ ملتی ہے کہ وہ
الفاظ و تراکیب کی تکرار سے کہیں کلام میں حُسن اور کہیں بیان میں زور پیدا کردیتے ہیں



ڈاکٹر جمیل جالبیؔ


حضرت سیّد محمّد حنیف اخگرؔ سے میری پہلی ملاقات چند ہفتے پہلے یہیں کراچی میں ہوئی۔ وہ نکہت بریلوی کے ہمراہ میرے غریب خانے پر تشریف لائے تھے۔ پہلی ہی ملاقات میں وہ مُجھے اچھے لگے۔ شیریں گُفتار اور کچھ رکھ رکھاؤ والے۔ وضع دار، خوش اطوار۔ اور جب انہوں نے اپنا دوسرا مجموعۂ کلام “پیش لفظ” کے لیے مُجھے دیا تو میں اپنی انتہائی مصروفیت کے باوجود اس لئے انکار نہ کرسکا کہ اچھا انسان مجھے ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ اور انسان اگر اچھا شاعر بھی ہو تو اور اچھا لگتا ہے۔


زیرِ نظر مجموعہ اخگرؔ صاحب کا دوسرا مجموعۂ کلام ہے۔ پہلا مجموعہ “چراغاں” کے نام سے 1992ء میں شائع ہوچکا ہے۔ اخگرؔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں ۔۔ ان کا کلام دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ذہنی و قلبی فضا تغزّل کے رنگ و آہنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ حُسن آفرینی ان کی غزل کی نمایاں خصوصیت ہے، جس میں ارضیت بھی شامل ہے اور ارفعیت بھی۔ ان کی شاعری میں حُسن ایک مجازی پیکر تو رکھتا ہے، لیکن وہ مظاہرِ کائنات اور ذہن و قلب کی داخلی فضاؤں میں بھی جلوہ گر ہے۔ حسن کی یہی جلوہ گری وارداتِ عشق سے مل کر ان کی غزل مِیں ایک ایسا رُخ اختیار کرلیتی ہے کہ ان کے اشعار میں اثر و تاثیر پیدا ہوجاتے ہیں:۔۔


حسین صورت ہمیں ہمیشہ حسیں ہی معلوم کیوں نہ ہوتی

حسین اندازِ دل نوازی، حسین تر ناز برہمی کا


وہ کم سنی میں بھی اخگرؔ، حسین تھا، لیکن

اب اس کے حسن کا عالم عجیب عالم ہے


یادِ فروغِ دستِ حنائی نہ پوچھیے

ہر زخمِ دل کو رشکِ نمک داں بنادیا



اس مرحلے سے گُزر کر اخگرؔ کی شاعری کا رُخ تصوّف کی طرف ہوجاتا ہے، اور ان کی غزل کا ایک حصّہ مُرشد اصغرؔ گونڈوی، اور مُرید جگرؔ مراد آبادی کی روایتِ شاعری سے جاملتا ہے۔ یہی وہ حصّہ ء شاعری ہے جو خصوصیت کے ساتھ پُر اثر بھی ہے، اور پُر لطف بھی۔ یہ چند اشعار دیکھیے ؂


ظرفِ حجابِ عشق ہی وجہِ نمُودِ حسن تھا

جلوے تمام دیدہ و دل میں سما کے رہ گئے


پردے پہ پڑی رہ گئیں، محفل کی نگاہیں

چہرہ کوئی مجھ کو پسِ پردہ نظر آیا


ہر حسن میں موجود ملی عشق کی صورت

ہر حال میں اخگر یہ تماشا نظر آیا


پردۂ بے خودی میں تھے زاِئرِ کائنات ہم

پردۂ بے خودی اُٹھا، ہوش میں آکے رہ گئے


یہی جنوں کا مُطالبہ ہے، یہی تقاضا ہے بے خودی کا

میں تشنہ رہ کر ہی تشنگی سے، علاج کرتا ہوں تشنگی کا



تصوّف کی طرف ان کا یہ رُخ زندگی ہی کو گوارا نہیں بنادیتا، بلکہ موت کو گلے لگانے کا سلیقہ سکھادیتا ہے ؂


عالمِ جاں کنی میں یوں کیفِ مَدام رکھ دیا

دیدۂ نیم باز میں خوابِ دوام رکھ دیا


اخگرؔ نیم جاں تجھے مژدۂ عمرِ ناتمام

موت کا نام حاصلِ عمرِ تمام رکھ دیا


اخگرؔ کی شاعری میں جذبہ جب تَخُیّل اور طرزِ ادا سے مل کر ایک وحدت بنتا ہے تو ان کی شاعری کا رُوپ نکھر اٹھتا ہے؂


بے شک اسیرِ گیسوئے جاناں ہیں بے شمار

ہے کوئی عشق میں بھی گرفتار دیکھنا


شدید تند ہوائیں ہیں کیا کیا جائے

سَکُوتِ غم کی صدائیں ہیں کیا کیا جائے


فُقدانِ عُروجِ رسن و دار نہیں ہے

منصور بہت ہیں، لبِ اظہار نہیں ہے


ہر طرف ہیں خانہ بربادی کے منظر بے شمار

کچھ ٹھکانہ ہے بھلا، اس جذبۂ تعمیر کا


یہ چند شعر اور دیکھیے ؂


جو مُسافر بھی تِرے کُوچے سے گُزرا ہوگا

اپنی نظروں کو بھی دیوار سمجھتا ہوگا


عشق میں دل کا یہ منظر دیکھا

آگ میں جیسے سمندر دیکھا


کشتۂ ضبطِ فُغاں، نغمۂ بے ساز و صدا

اُف وہ آنسو جو لہو بن کے ٹپکتا ہوگا


شامل ہوئے ہیں بزم میں، مثلِ چَراغ ہم

اب صبح تک جلیں گے، لگاتار دیکھنا


جس کو بھی اب نصیب ہو قلب و نظر کی روشنی

ہم نے دیا تو برسرِ شارعِ عام رکھ دیا


خلوص و جہد مسلسل، توکّل و اُمّید

یہی ہے رختِ سفر اہلِ کارواں کیلیے”



اخگرؔ کے ہاں “حُسن” کے ساتھ “حیا” کا تصور بھی لطف دیتا ہے اور تخلیقی قُوّت کے ساتھ اُبھرتا ہے ؂


نگاہوں کے سوا اس راز سے واقف نہیں کوئی

کہ اس رُخ پر حیا کی جلوہ آرائی بھی ہوتی ہے


چہرہ بہ رنگ و نورِ حیا سُرخ تھا مگر

اظہارِ شوق پر وہ برافروختہ نہ تھا


حیا سے شوخی کے پیرہن میں ہزارہا رنگ ہیں نمایاں

نہ گُل نہ بُوٹا قبائے گُل میں، بس ایک عالم ہے سادگی کا


وطن سے دُوری حُبِّ وطن کو اور تیز کردیتی ہے۔ اخگرؔ کے ہاں یہ مثبت قدر، ایک حسین سہارا بن کر اچھے اشعار کی تخلیق کا مَوجب بنتی ہے، اور رُوحِ عصر سے جاملتی ہے ؂



چمن کی یاد نے ہم کو کیا ہے آمادہ

قفس میں جُرأتِ تعمیرِ آشیاں کے لیے


خدا گواہ یقیناً اٹھارہے ہیں ہم

قفس میں عیشِ اذیّت بھی آشیاں کے لیے


غیروں کی سازشوں نے خوو اپنوں کے روپ میں

صبحِ وطن کو شامِ غریباں بنادیا


میرے بھائیو، میرے ساتھیو، رہ راستی پہ ڈٹے رہو

بہ وجوہ اخگرؑ بے نوا کا بھی حوصلہ ہے بڑھا ہوا


حنیف اخگرؔ نے چھوٹی، درمیانی، اور لمبی، ہر طرح کی بحروں مِیں غزلیں کہی ہیں۔ اور ہر بحر میں اپنی آواز کا آہنگ شامل کیا ہے۔ درمیانی اور لمبی بحروں کے نمونے ان اشعار میں آپ کو ملیں گے، جو اوپر مثالوں میں پیش کیے گئے ہیں۔ اب چھوٹی بحر کی غزلوں سے دو دو شعر ملاحظہ کیجیے ؂


میرے ارماں نکلے نہیں

ہو کے دل پر رقم رہ گئے


اٹھ کے محفل سے سب گھر گئے

ہم کہ بے گھر تھے، ہم رہ گئے


کیا ستم ہے

درد کم ہے


غم بہت ہو

پھر بھی کم ہے


حنیف اخگرؔ کے اس مجموعے میں دو منقبتوں میں یہ التزام رکھا گیا ہے کہ ان کا ہر شعر مطلع ہے، اور یہ منقبتیں خاصی طویل ہیں۔ اردو ادب کی تاریخ میں محمّد تقی میرؔ کے بیٹے میرکلو عرشؔ کے ہاں پہلی بار یہ صورت نظر آتی ہے۔ اور یہ میر کلو عرشؔ کی ایجاد ہے، جیسا کہ اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے : ۔۔


تیری ایجاد ہے اے عرشؔ یہ مطلع کی غزل

غزل اشعار کی اک اور سُنائی ہوتی


اس کے بعد غزل کی یہ ہیئت حنیف اخگرؔ کے ہاں ملتی ہے۔ فنّی اعتبار سے حنیف اخگرؔ کے ہاں ایک صورت یہ ملتی ہے کہ وہ الفاظ و تراکیب کی تکرار سے کہیں کلام میں حُسن اور کہیں بیان میں زور پیدا کردیتے ہیں۔ اور یہ انداز لطف دیتا ہے۔ یہ چند شعر دیکھیے ؂


ہر طرف ہیں خانہ بربادی کے منظر بے شمار

کچھ ٹھکانہ ہے بھلا، اس جذبۂ تعمیر کا


نگاہ و دل ذرا اخگرؔ کلیم و طور بن جائیں

کلیم و طور ہوں تو جلوہ آرائی بھی ہوتی ہے


پردۂ بے خودی میں تھے زائرِ کائنات ہم

پردۂ بے خودی اُٹھا ، ہوش میں آکے رہ گئے


ایسے ہی دو شعر میں نے اُوپر نقل کیے ہیں۔ اس مجموعے میں سارے شعر یکساں معیار کے نہیں ہیں۔ یہ کام تو میر بھی نہ کرسکے۔ ہم اخگرؔ سے کیوں [یہ] توقّع رکھیں۔ بحیثیتِ مجموعی حنیف اخگرؔ ایک پُختہ گو، اور قادرالکلام شاعر ہیں۔ یہاں [پاکستان] ہوتے تو تخلیقی سطح پر خوب پھلتے پھولتے۔ بہر حال، جہاں رہیں، شاد آباد رہیں۔


نومبر 2, 1997ء


ڈاکٹر جمیل جالبیؔ

سابق وائس چانسلر، کراچی یونی ورسٹی

کراچی، پاکستان


٭



1 comment:

Farhana said...

Hi...your blog is very nice. I like to visit your blog. And i want to always visit everyday. Don't forget to visit my blog at Zrooglepic

Site Design and Content Management by: Justuju Media

Site Design and Content Management by: Justuju Media
Literary Agents & Biographers: The Legend of Akhgars Project.- Click Logo for more OR eMail: Justujumedia@gmail.com