Total Pages Published شائع شدہ صفحات


Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click "How to Enjoy this Web Book"

Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click  "How to Enjoy this Web Book"
How to Enjoy this Web Book - Click Above ... اس ویب کتاب سے لطف کیسے اٹھائیں - اوپر کلک کریں

Amazon in association with JUSTUJU presents

English Translations

Webfetti.com

Please Click above for Akhgar Poetry in English

Tuesday, July 14, 2009

تیر چلانا آئے ہے







پیہم بہ نگاہِ ناز اُسے کب تیر چلانا آئے ہے

خود زد پہ دلِ آزار طلب بن بن کے نشانہ آئے ہے


اُلفت میں بہ فیضِ شدّتِ غم ایسا بھی زمانہ آئے ہے

جب عیش و طرب کی شمعوں کو اشکوں سے بُجھانا آئے ہے


پندارِ نگاہِ شوق و طلب اب تیرا خدا ہی حافظ ہے

دل جلوہ طلب ہے اور انہیں جلوہ بھی دکھانا آئے ہے


ہم نے تو بقیدِ ہوش و خرد، تکمیلِ جنوں خود ہی کی تھی

اور آپ سمجھ بیٹھے کہ، ہمیں دیوانہ بنانا آئے ہے


کہتے ہیں مسیحا تم کو مگر، تم زخم کا بھرنا کیا جانو

تم کو تو فقط ان آنکھوں سے اِک زخم لگانا آئے ہے


خود ذات میں اپنی دریا ہے وہ موج کہ جس کو طوفاں سے

کشتی کو بچاکر ساحل کے سینے سے لگانا آئے ہے


وہ باعثِ لُطفِ دید بھی ہے، صد رشک مہ و خورشید بھی ہے

جس ایک نظر کو شمعِ یقیں سینے میں جلانا آئے ہے


دامانِ و گریباں چاک کیے خود ہم نے جنوں مِیں اے اخگرؔ

اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں دیوانہ بنانا آئے ہے


٭

No comments:

Site Design and Content Management by: Justuju Media

Site Design and Content Management by: Justuju Media
Literary Agents & Biographers: The Legend of Akhgars Project.- Click Logo for more OR eMail: Justujumedia@gmail.com