Total Pages Published شائع شدہ صفحات


Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click "How to Enjoy this Web Book"

Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click  "How to Enjoy this Web Book"
How to Enjoy this Web Book - Click Above ... اس ویب کتاب سے لطف کیسے اٹھائیں - اوپر کلک کریں

Amazon in association with JUSTUJU presents

English Translations

Webfetti.com

Please Click above for Akhgar Poetry in English
Showing posts with label Haneef Akhgar Maleehabadi. Show all posts
Showing posts with label Haneef Akhgar Maleehabadi. Show all posts

Sunday, August 2, 2009

مہر و مہ و انجم کے طلبگار نہیں ہیں

مہر و مہ و انجم کے طلبگار نہیں ہیں

ہم کہنہ چراغوں کے خریدار نہیں ہیں






مہر و مہ و انجم کے طلبگار نہیں ہیں

ہم کہنہ چراغوں کے خریدار نہیں ہیں


یہ بھی تری معصوم نگاہی کا اثر ہے

مجرم نظر آئے جو خطاوار نہیں ہیں



بے مأ یگیِ دل نے سکھایا یہ سلیقہ

خوں بار ہیں آنکھیں، جو گُہر بار نہیں ہیں


ہم کسبِ ہنر ہی میں ہنر بانٹ رہے ہیں

دریوزہ گرِ چشمِ خریدار نہیں ہیں


کیا باندھتے ہم برہمیِ زلف کے مضمون

اک جنبشِ ابرو کے سزاوار نہیں ہیں


گرویدہ و مشتاقِ خدوخال تو سب ہیں

سب تیری محبّت میں گرفتار نہیں ہیں


خوش فہمیِ آغازِ محبّت میں ہیں اخگرؔ

انجامِ محبّت سے خبردار نہیں ہیں


٭

Saturday, August 1, 2009

ہم ان کو دیکھ کے حیرت میں آنے لگتے ہیں


وہ آرہے ہیں چمن میں بشوقِ پامالی

یہ بات ہے تو ابھی ہم ٹھکانے لگتے ہیں




ہم ان کو دیکھ کے حیرت میں آنے لگتے ہیں

اُنہیِں کو آئینہ گویا دکھانے لگتے ہیں


وہ جب بھی تیرِ نظر آزمانے لگتے ہیں

ہمار ا دل ہی نشانہ بنانے لگتے ہیں


وفُورِ درد نہیں باعثِ سکون مگر

کمی سے درد کی ہم تلملانے لگتے ہیں


ہم ان کی بزم سے اُٹھّے تو یوں لگے جیسے

غبار اڑ کے سرِ دشت جانے لگتے ہیں


نئے تو زخم بہت دل پہ آئے ہیں لیکن

نئے نئے بھی پرانے پرانے لگتے ہیں


وہ آرہے ہیں چمن میں بشوقِ پامالی

یہ بات ہے تو ابھی ہم ٹھکانے لگتے ہیں


بس ایک لمحۂ تنہائی چاہیے اخگرؔ

اب اس میں دیکھیے کتنے زمانے لگتے ہیں


٭




بن کے خوشبو وہ بسا ہے مجھ میں


کیجیے دار و رسن کی باتیں

جذبۂ صدق و صفا ہے مجھ میں






بن کے خوشبو وہ بسا ہے مجھ میں

ہر نفس موجِ صبا ہے مجھ میں


ہے تصوّر میں کوئی مست خرام

اک قیامت سی بپا ہے مجھ میں


سخت حیران ہے آئینۂ جاں

کوئی تو میرے سوا ہے مجھ میں


طاقتِ جنبشِ پا ہو کہ نہ ہو

ہمّتِ لغزشِ پا ہے مجھ میں


بختِ خفتہ کا یہ ہے ردِّ عمل

حوصلہ جاگ رہا ہے مجھ میں


کیجیے دار و رسن کی باتیں

جذبۂ صدق و صفا ہے مجھ میں


ظرفِ اظہارِ وفا سے بڑھ کر

جُراَتِ ترکِ وفا ہے مجھ میں


دل میں اک تیر ترازو ہوکر

درد کو تول رہا ہے مجھ میں


کوئی ارمان نہ نکلا اب تک

ایک میلہ سا لگا ہے مجھ میں


حسبِ ہر جبرِ مشیّت اخگرؔ

وصفِ تسلیم و رضا ہے مجھ میں


٭


سخت حیران ہے آئینۂ جاں

کوئی تو میرے سوا ہے مجھ میں


Site Design and Content Management by: Justuju Media

Site Design and Content Management by: Justuju Media
Literary Agents & Biographers: The Legend of Akhgars Project.- Click Logo for more OR eMail: Justujumedia@gmail.com