Total Pages Published شائع شدہ صفحات


Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click "How to Enjoy this Web Book"

Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click  "How to Enjoy this Web Book"
How to Enjoy this Web Book - Click Above ... اس ویب کتاب سے لطف کیسے اٹھائیں - اوپر کلک کریں

Amazon in association with JUSTUJU presents

English Translations

Webfetti.com

Please Click above for Akhgar Poetry in English
Showing posts with label چراغاں، حنیف اخگر، شمالی امریکہ میں اردو، جستجو میڈیا. Show all posts
Showing posts with label چراغاں، حنیف اخگر، شمالی امریکہ میں اردو، جستجو میڈیا. Show all posts

Tuesday, July 14, 2009

ایسے بھی لمحات آئے





مُحبّت میں ایسے بھی لمحات آئے

لہو ہوگیا دل مگر مُسکرائے


کچھ ایسی ادا سے مقابل وہ آئے

کئی بار اپنے قدم ڈگمگائے


ابھی وہ مِرے دل سے واقف نہیں ہیں

کوئی لاکے آئینہ اُن کو دکھائے


شبِ وعدہ یُوں دل کو سمجھا رہا ہوں

وہ آتے ہی ہوں گے وہ آئے وہ آئے


بہارو خزاں کو بیک وقت دیکھا

میں رویا ادھر وہ اُدھر مُسکرائے


وہ اِک لہر سَو100 ناخداؤں سے بہتر

سفینہ جو طوفان سے ساحل پہ لائے


بلا سے یہ دل خاک ہوجائے لیکن

زبانِ محبّت پہ اُف تک نہ آئے


زبان سے مِری پہلے سُن لے کہانی

ضروری نہیں ہے تِرا نام آئے


میں وہ رہروِ راہِ الفت ہوں اخگرؔ

جو منزل پہ بھی اپنی منزل نہ پائے

٭

وفا شعار نہیں





وفا کو جو نہ سرا ہے وفا شعار نہیں

جو دل کا راز نہ جانے وہ راز دار نہیں


بہار میں ہوں تو اندیشہء خزاں ہے محیط

خزاں میں ہوں تو کچھ اندیشہء بہار نہیں


نفس کی آمد و شُد پر ہے انحصارِ حیات

نفس کی آمدوشُد کا ہی اعتبار نہیں


تِری عنایتِ پیہم کی آرزو ہے مگر

تِری جفائے مُسلسل بھی ناگوار نہیں


یہ کس مقام پر لے آئی بے خودی دل کی

کہ منتظر ہوں مگر کربِ انتظار نہیں


اُسے سُکون کا مفہوم ہی نہیں معلوم

جو دل کسی کی محبّت میں بے قرار نہیں


گُلوں کے لب پہ تبسُّم اگر نہیں اخگرؔ

تو یہ بہار کی توہین ہے بہار نہیں


٭


Monday, July 13, 2009

اپنا دل سمجھتے ہیں





شکستہ دل کسی کا ہو، ہم اپنا دل سمجھتے ہیں

تِرے غم میں زمانے بھر کے غم شامل سمجھتے ہیں


ہوئی ہیں اسقدر آسانیوں سے مشکلیں پیدا

ہر آسانی کو ہم اپنی جگہ مشکل سمجھتے ہیں


وہ خود دیکھے مگر اس کو کوئی نہ دیکھنے پائے

تِرا انداز ہم اے پردہء حائل سمجھتے ہیں


کسی کا ہاتھ زخموں پر، کِسی کا ہاتھ گردن میں

مسیحا کون ہے، اور کون ہے قاتل، سمجھتے ہیں


حدِ دل سے تو باہر درد تیرا ہو نہیں سکتا

جہاں تک درد ہے تیرا وہیں تک دل سمجھتے ہیں


مجالِ دید کی مُہلت نہ دیں لیکن یہ کیا کم ہے

وہ ہم کو اپنی بزمِ ناز کے قابل سمجھتے ہیں


تعیّن حُسنِ مقصد کا نہیں اُس کے سِوا کوئی

ٹھہر جائیں جہاں ہم بس اُسے منزل سمجھتے ہیں


کہاں تک ہم مُسلسل رُخ بدلتے جائیں کشتی کا

وہی طوفاں نکلتا ہے، جسے ساحل سمجھتے ہیں


انہیں فُرصت کہاں، یہ بھی غنیمت جانیے اخگرؔ

کہ وہ دل کو کسی تعزیر کے قابل سمجھتے ہیں


٭


مُجھ سے مُحبّت تو نہیں





آپ کو مُجھ سے مُحبّت تو نہیں

اس فسانے میں حقیقت تو نہیں


ہوس آلود ہے دامانِ وفا

یہ تجارت ہے مُحبّت تو نہیں


میں نے اس بُت کو خُدا مان لیا

بے بسی ہے یہ قناعت تو نہیں


اُن کی آنکھوں میں یہ آنسو کیسے

دل دُکھانا میری فطرت تو نہیں


صبر آجائے گا آتے آتے

دل کا جانا ہے قیامت تو نہیں


آئنے میں ہے فقط آپ کا عکس

آئنہ آپ کی صورت تو نہیں


نم ہوئیں کس لیے آنکھیں اخگرؔ

آرزو حرفِ ندامت تو نہیں


٭


سُوئے دار نکل جاتے ہیں





کم ہیں ایسے جو سُوئے دار نکل جاتے ہیں

بیشتر لوگ اُن آنکھوں سے بہل جاتے ہیں


اُن کو رکھتے ہیں کبھی دل میں کبھی آنکھوں میں

مے وہی رہتی ہے پیمانے بدل جاتے ہیں


کوئی نظروں سے جو گرجائے تو اٹھتا ہے کہاں

اشک تو پھر بھی سنبھالے سے سنبھل جاتے ہیں


رُخ ہواؤں کا بدلتے ہوئے دیکھیں جو ذرا

ناخداؤں کے ارادے بھی بدل جاتے ہیں


جب بھی اُس زلفِ پریشاں کی ہوا آتی ہے

لوگ خوشبو کی طرح گھر سے نکل جاتے ہیں


حسرتیں دل میں ہیں اتنی کہ نکلتی ہی نہیں

آج جاتے ہیں یہ مہمان نہ کل جاتے ہیں


اس کی شیرینیء لب کی جو کروں بات اخگرؔ

سارے الفاظ مِرے شہد میں ڈھل جاتے ہیں


٭

Friday, July 10, 2009

پلکوں پہ آرہے ہیں







پلکوں پہ آرہے ہیں




ہزار آنسو امنڈ امنڈ کر ہماری پلکوں پہ آرہے ہیں

کوئی تہی دامنوں سے کہدے کہ ہم خزانے لُٹا رہے ہیں


نہیں غم اِس کا کہ ہر نفس پر وہ لذّتِ غم بڑھارہے ہیں

ہمیں تو اس بات کی خوشی ہے کہ وہ ہمیں آزمارہے ہیں


نہ کوئی مونس نہ کوئی ہمدم نہ کوئ پُرسانِ غم ہے پھر بھی

نہ جانے کیوں دل یہ کہہ رہا ہے وہ آرہے ہیں وہ آرہے ہیں


طراوشِ خوں کی سُرخیوں سے یہ رات کی محفلیں سجی ہیں

مِرے لہو کے دیے جلا کر وہ جشنِ عشرت منارہے ہیں


نہ کوئی عالم نہ کوئی منظر، تھی ایک سکتے میں چشمِ حیرت

نقاب اُلٹ کر وہ آگئے ہیں تو آئنے گُنگُنا رہے ہیں


یہ کس نے چھیڑا ہے سازِ اُلفت کہ اب حیا سے کسی کے رُخ پر

ہزارہا رنگ آرہے ہیں، ہزارہا رنگ جارہے ہیں


چمن کو ہم چھوڑ آئے اخگرؔ ہیں اشک رنگیں تو چشم تر میں

برس رہی ہیں ہماری آنکھیں صلہ محبّت کا پارہے ہیں


٭

جستجو نوٹس:

طَراوِش [طَرا + وِش] (فارسی)

متغیّرات
تَراوِش [تَرا + وِش]

اسم کیفیت
ٹپکنے یا ٹپکانے کا عمل، بارش، ترشح، ہلکی بوندا باندی۔

معتبر جائیں گے ہم





معتبر جائیں گے ہم




رُو برُو اس کے بچشمِ معتبر جائیں گے ہم

آئنے میں دیکھنے آئینہ گر جائیں گے ہم


اپنی ہستی کو جو تُجھ میں جذب کرجائینگے ہم

بس ہمیں ہم ہوں گے نظروں میں جدھر جائیں گے ہم


اب یہ سوچا ہے کہ جب بھی سامنے آئیں گے وہ

سر جھکائے بے نیازانہ گذر جائیں گے ہم


اِس طرف اک بُت کدہ ہے، اُس طرف بابِ حرم

جائیں گے لیکن اِدھر ہوکراُدھر جائیں گے ہم


مسندِ دارورسن کو بھی سجانا چاہیے

اُٹھ کے محفِل سے تِری آخر کدھر جائینگے ہم


موت سے پہلے اگرآنا تِرا مُمکن نہیں

پھر یہی ہوگا کہ بس، بے موت مرجائیں گے ہم


عشق کی فطرت ہے اپنی ذات میں مُشکل پسند

کم ہوئی دشواریء منزل تو مرجائیں گے ہم


اور بڑھ جائیں گی کُچھ حُسن کی وسعتیں

آپ کی ہر ہر اَدا منظوم کرجائیں گے ہم


وسعتِ پائے جنوں کا بھی ہے لازم احترام

دشت سے فرصت ملے گی جب تو گھر جائیں گے ہم


حاصلِ راہِ طلب ہے جستجو ہی جستجو

مل گئی منزل تو اخگرؔ کوچ کرجائیں گے ہم


٭



مسکرائیں گے ہم









مسکرائیں گے ہم


سنگ برسیں گے اور مُسکرائیں گے ہم

یوں بھی کُوئے ملامت میں جائیں گے ہم


آئنہ تیرے غم کو دکھائیں گے ہم

دل جلے گا مگر مُسکرائیں گے ہم


غم تِرا اس طرح آزمائیں گے ہم

ہر مُسرّت سے دامن بچائیں گے ہم


اب یہ سوچا ہے اِک شخص کی یاد کو

زندگی کی طرح بھُول جائیں گے ہم


دیکھنا بن کے پروانہ آؤ گے تم

صورتِ شمع خود کو جلائیں گے ہم


دشمنوں پر اگر وقت کوئی پڑا

دوستوں کی طرح پیش آئیں گے ہم


دل کو زخموں سے اخگرؔ سجائے ہوئے

روز جشنِ بہاراں منائیں گے ہم


٭


Site Design and Content Management by: Justuju Media

Site Design and Content Management by: Justuju Media
Literary Agents & Biographers: The Legend of Akhgars Project.- Click Logo for more OR eMail: Justujumedia@gmail.com