Total Pages Published شائع شدہ صفحات


Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click "How to Enjoy this Web Book"

Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click  "How to Enjoy this Web Book"
How to Enjoy this Web Book - Click Above ... اس ویب کتاب سے لطف کیسے اٹھائیں - اوپر کلک کریں

Amazon in association with JUSTUJU presents

English Translations

Webfetti.com

Please Click above for Akhgar Poetry in English
Showing posts with label چراغاں، حنیف اخگر، جستجو میڈیا، شمالی امریکہ میں اردو. Show all posts
Showing posts with label چراغاں، حنیف اخگر، جستجو میڈیا، شمالی امریکہ میں اردو. Show all posts

Friday, July 10, 2009

درد اگر ہوجائے کم




عارض رنگیں کہنے میں توصیف تو ہے تشبیہہ نہیں

پھول پہ آئے اسکی شباہت پھول کی اُس پر آئے کم






درد اگر ہوجائے کم




حالِ دل بیمارسمجھ میں چارہ گروں کی آئے کم

بے چینی ہوجائے زیادہ درد اگر ہوجائے کم


اشک نکل جائیں تو یقیناً شدّتِ غم ہوجائے کم

دل کا جھلس جانا لازم ہے آہ جو لب پر آئے کم


مُجھ کو ہے تسلیم قفس میں پھولوں کے ہیں سائے کم

ہائے مگر وہ جن کو چمن کی آب و ہوا راس آئے کم


راہِ طلب میں ہر منزل پر ہو تجدید عزمِ سفر

رہرو کو آرام نہ آئے اور جوآئے آئے کم


قامتِ فن کی بات الگ،معیارِ ھنر کی بات الگ

شہرِ سُخن گنجان ہے لیکن ہیں میرے ہمسائے کم


اپنے عیب سے واقف ہونا، سب سے بڑا ہے کارِ ہُنر

آدمی خود آئینہ دیکھے اوروں کو دکھلائے کم


پوُچھنے والو!۔ حال نہ پوُچھو عشق میں اب یہ عالم ہے

خود پر ہنسنا آئے زیادہ دل پر رونا آئے کم


عارض رنگیں کہنے میں توصیف تو ہے تشبیہہ نہیں

پھول پہ آئے اسکی شباہت پھول کی اُس پر آئے کم


شہرِ نفس سے وادیٔ جاں تک سیکڑوں نازک رشتے ہیں

سانس نہ رُکنے پائے اخگرؔ درد نہ ہونے پائےکم


٭




Wednesday, July 8, 2009

مآلِ جُستجو تھا






مآلِ جُستجو تھا




یہی شاید مآلِ جستجو تھا

غبار اک ناتواں سا کُوبکُو تھا


جوآئینے میں میرے رُوبَرُو تھا

وہ تجھ جیسا ہی کوئی ہُو بَہُو تھا


سحرِ دم خواب میں ساقی کو دیکھا

وہ میرے رُوبَرُو، میں قبلہ رُو تھا


وہ عالم یاد تو ہوگا تجھے بھی

ہمیں ہم تھے جہاں یا تُو ہی تُو تھا


چمن میں بھی کہاں آزاد تھا میں

گرفتارِ فریبِ رنگ و بُو تھا


سُکوتِ لب کی کیفیّت نہ پوچھو

خموشی میں فسونِ گفتگو تھا


سرِ محشر کہے گی تیغِ قاتل

سرِ مقتل میں کتنا سُرخرُو تھا


کسی منزل پہ بھی منزل نہ پائی

یہی میرا مآلِ جستجو تھا


وہی ننگِ چمن ٹھہرے ہیں اخگرؔ

لہو جن کا چمن کی آبرو تھا


* * *



Site Design and Content Management by: Justuju Media

Site Design and Content Management by: Justuju Media
Literary Agents & Biographers: The Legend of Akhgars Project.- Click Logo for more OR eMail: Justujumedia@gmail.com