Total Pages Published شائع شدہ صفحات


Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click "How to Enjoy this Web Book"

Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click  "How to Enjoy this Web Book"
How to Enjoy this Web Book - Click Above ... اس ویب کتاب سے لطف کیسے اٹھائیں - اوپر کلک کریں

Amazon in association with JUSTUJU presents

English Translations

Webfetti.com

Please Click above for Akhgar Poetry in English
Showing posts with label چراغاں، حنیف اخگر ملیح آبادی، شمالی امریکہ میں اردو، جستجو میڈیا. Show all posts
Showing posts with label چراغاں، حنیف اخگر ملیح آبادی، شمالی امریکہ میں اردو، جستجو میڈیا. Show all posts

Wednesday, July 15, 2009

جُدا ہوتا ہے






جب کوئی مُجھ سے گلے مِل کے جُدا ہوتا ہے

ہر نفس میرے لیے ایک سزا ہوتا ہے


آدمی اپنی ہی صورت پہ فِدا ہوتا ہے

یہ بھی ایک عالمِ تسکینِ انا ہوتا ہے


آپ جب پُرسِشِ احوال کو آجاتے ہیں

درد کچھ اور سِوا اور سِوا ہوتا ہے


بات تو جب ہے کہ میخانے کی رُت بھی بدلے

صرف پیمانہ بدل دینے سے کیا ہوتا ہے


کس پریشاں کے لیے جائے گا خوشبو کا پیام

زُلف سے مشورۂ بادِ صبا ہوتا ہے


صرف آنسوہی جوابِ غمِ دوراں تو نہیں

اِک تبسُّم سے بھی یہ فرض ادا ہوتا ہے


دلِ پہ اِک چوٹ سی لگتی ہے ضرور اے اخگرؔ

شاخ سے جب بھی کوئی پھُول جُدا ہوتا ہے


٭

Tuesday, July 14, 2009

جستجو کا امتحاں ہوجائیے













میرے ذوقِ جستجو کا امتحاں ہوجائیے

ذرّے ذرّے سے عیاں ہوکر نِہاں ہوجائیے


بے طلب آجائیے، اور جاوداں ہوجائیے

میرے پہلو میں بہارِ بے خزاں ہوجائیے


جب طبیعت کچھ حقیقت آشنا ہونے لگے

داستاں در داستاں در داستاں ہوجائیے


قابلِ اظہار ہوجائے اگر بے مائیگی

صورتِ شبنم گُلوں پر نوحہ خواں ہوجائیے


آئیے کچھ اس طرح نظریں جھُکا کر سامنے

آئینہ دارِ نگاہِ دوستاں ہوجائیے


وہ نظر تو دفعتاً اُٹھّے گی اخگرؔ ،پہلے آپ

قابلِ احسانِ مرگِ ناگہاں ہوجاِئیے


٭


صدا سے پہلے


بزم کو رنگِ سُخن میں نے دیا ہے اخگرؔ

لوگ چُپ چُپ تھے مِری طرزِ نوا سے پہلے










چونک اٹھتا ہے نفس کی بھی صدا سے پہلے

دل کا یہ حال نہ تھا عہدِ وفا سے پہلے


عشق کی لوَ طلبِ حسن کی محتاج نہیں

ہم نے چاہا ہے تجھے تیری ادا سے پہلے


دل طلب کرتی ہے جب ہم سے کوئی شوخ نظر

مشورہ کرتے ہیں ہم اپنی انا سے پہلے


یہ الگ بات کہ چُٹکی نہ مِرے دل کی کلی

ورنہ گلشن میں تم آئے تھے صبا سے پہلے


دستِ فطرت نے کوئی نقش بنایا ہی نہ تھا

خاک پر آپ کے نقش کفِ پا سے پہلے


صورتِ شمع جو بُجھتے تو ابد ہوجاتے

ہم کہاں تھے ترے دامن کی ہوا سے پہلے


میری اِک سادہ نگاہی کا اثر ہے ورنہ

کون واقف تھا تِرے رنگِ حیا سے پہلے


تیرا غم، دہر کا غم، عشق کا غم، اپنا غم

موت آئی ہے کئی بار قضا سے پہلے


بزم کو رنگِ سُخن میں نے دیا ہے اخگرؔ

لوگ چُپ چُپ تھے مِری طرزِ نوا سے پہلے


٭

Site Design and Content Management by: Justuju Media

Site Design and Content Management by: Justuju Media
Literary Agents & Biographers: The Legend of Akhgars Project.- Click Logo for more OR eMail: Justujumedia@gmail.com