Total Pages Published شائع شدہ صفحات


Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click "How to Enjoy this Web Book"

Best Viewed Using Jameel Noori Nastaleeq - Please Click  "How to Enjoy this Web Book"
How to Enjoy this Web Book - Click Above ... اس ویب کتاب سے لطف کیسے اٹھائیں - اوپر کلک کریں

Amazon in association with JUSTUJU presents

English Translations

Webfetti.com

Please Click above for Akhgar Poetry in English

Sunday, August 16, 2009

ڈاکٹَر فرمان فتح پوری [ستارۂ امتیاز]۔ خلق مجسم پر ایک نظر






ڈاکٹَر فرمان فتح پوری [ستارۂ امتیاز]۔


خُلقِ مُجَسّم پر ایک نظر


حضرت اخگرؔ ملیح آبادی، عہدِ حاضر کے اُن اردو شعراء میں ہیں جن کا نام و کام دیارِ مشرق سے لے کر ایوانِ مغرب تک، بشمول امریکہ، کینیڈا، اور یورپی ممالک، قدر کی نگاہ سے ، اورہر ادبی و شعری محفل میں انہیں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اور ان کی شرکت و موجودگی کو باعثِ توقیر و تبریک سمجھا جاتا ہے۔


اپنے ہم عصروں میں انہیں یہ قابلِ رشک مُقام، ان کی خوش خلقی و خوش فکری، اور خوش گوئی و خوش کلامی نے دیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ان کی طبیعت کا عجز و انکسار، ان کی سیرت و شخصیت کا ایسا طاقتور پہلو ہے جو بڑے سے بڑے سرکش و مُخالف کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔ عارضی طور پر نہیں، بلکہ زندگی بھر کے لیے۔ میرا مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ جو ایک بار بھی اُن سے مِلا، اُن کی شخصیت کی مقناطیسیت کے تحت انہیں کا ہوکر رہ گیا۔


جیسا کہ عرض کیا گیا، اخگرؔ ملیح آبادی اردو کے [ایک] نامور شاعر ہیں۔ اُن کے کمالِ فن کے عام و خاص سبھی معترف ہیں۔ ان کے دو شعری مجموعے “چراغاں” اور “خیاباں” کے نام سے شائع ہوچکے ہیں، اور اہلِ فکر و فن سے خراجِ تحسین لے چکے ہیں۔ ان کا تازہ شعری مجموعہ بابرکت و عظیم تر موضوعات اور جاں گُداز اور دل نشیں اُسلوب کے ساتھ بنام “خُلقِ مُجَسّم” منظرِ عام پر آیا ہے۔ اور چراغاں، اور خیاباں کے پس منظر کے ساتھ ایک مومن کے لیے طمانیتِ قلب و آسُودگیء جاں کا حیرت ناک پیش منظر لے کر آیا ہے۔ ایسا ہونا بھی چاہیے تھا، کہ اس نئے شعری مجموعہ کا تعلّق عام غزلیہ و نظمیہ شاعری سے نہیں، بلکہ کائنات کے عظیم ترین موضوع اور موضوع سے نسبتِ خاص رکھنے والے اُن اشخاص سے ہے جن کی مدح و ثناء کو منظوم صورت میں نعت و منقبت کا نام دیا گیا ہے۔


نعتیہ و منقبتیہ شاعری کا ذکر آیا تو اُس مجموعہِ کے مطالعہ سے پہلے قاری کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ نعت و منقبت کی شاعری کے تقاضے، شاعری کے عمومی تقاضوں سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ اس بدیہی حقیقت کی وضاحت کی ضرورت نہیں، کہ شاعر اور شاعری کی ہرصنف کے لیے موزونیِ طبع کے ساتھ علمِ عروض و قافیہ سے قدرے واقفیت، علمِ بیان و بدیع سے مُناسبت و آگہی، زباں و بیاں کے رَمُوز و نکات سے آشنائی، اور وُسعتِ مطالعہ کے ساتھ جولانیء فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن نعتیہ و منقبتیہ شاعری ان اوصاف سے آگے بڑھ کر اس دیوانگیِ شوق اور جذبہء والہانہ کا تقاضہ کرتی ہے جو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کی ذات و صِفات اور اُن کی ذات و صفات سے مُستفید ہونے والے اشخاص کے لیے مخصوص ہے۔ لیکن اس نوع کا انتساب ِقلبی و اختصاصِ شخصی سب کو نہیں، کسی کسی کو مُیسّر آتا ہے۔ بحمداللہ محمّد حنیف اخگرؔ کو یہ نعمت من جانب اللہ عطا ہوئی ہے۔ اس عطا کو انہوں نے نعت و منقبت کے وسیلے سے اپنے جسم و جاں کے لیے دائمی دارالصحت اور قلب و رُوح کے لیے ادبی دارالشفا بنا لیا ہے۔ جگر مُرادآبادی نے شاید ایسے ہی رُتبۂ بلند اور مُقامِ مَسعود کے لیے کہا تھا کہ ؂


اللہ اگر توفیق نہ دے، انسان کے بس کا کام نہیں

فیضانِ مُحبّت عام تو ہے، عرفانِ مُحبّت عام نہیں


حنیف اخگرؔ کو اِس مُقامِ بُلند تک پہنچانے میں یقیناً توفیقِ الہٰی کا بڑا ہاتھ ہے۔ لیکن اتنی بات ذہن میں رہے کہ یہ تَوفیق انہیں کے حصّہِ میں آتی ہے جو اس توفیق کے مُتَمَنِّی اور جَویا ہوں۔ نیز، جنہوں نے قدرت کی ودیعت کردہ صلاحیّتوں کو طاقتور اور کارگر بنانے کے لیے اپنے اِسلافِ برگزیدہ اور اطرافِ پاکیزہ سے شُکر گزاری اور احسان مندی کے جذبات کے ساتھ اَخذ و استفادہ کیا ہو۔ حنیف اخگرؔ کی بڑائی کا ایک نمایاں نشان یہ بھی ہے کہ حمد و نعت کے باب میں جہاں وہ توفیقِ الہٰی کے شکر گُزار ہیں، وہیں اپنے بُزرگوں کے فیضان کے بھی معترف و احسان مند ہیں۔ تبھی تو لکھتے ہیں:۔

۔” حمد و نعت و منقبت کے سلسلے میں بھی میں نے اپنے والدین کی پسندیدگی کے تحت ابّا میاں مرحوم قاضی سیّد محمد شریف اثرؔ کسمنڈوی کے علاوہ امیرؔ مینائی، مُحسنؔ کاکوروی، جگرؔ مُرادآبادی، حسرتؔ مَوہانی کی نعتوں کے بغور مطالعہِ کے ساتھ پروفیسر حفیظ تائبؔ، رونقؔ بدایونی، عبدالحمید صدیقی لکھنوی، اور بالخصوص شاعرؔ لکھنوی مرحوم کی نعتوں سے نہ صرف بار بار محظوظ ہوا ہوں، بلکہ ان کو اپنا معیار مقرّر کیا ہے، اور بہت کچھ سیکھا ہے”۔


یہ سَطُور بتاتی ہیں کہ “خُلقِ مُجسّم” کا شاعر ایک بھرپور ادبی و شعری پس منظر رکھتا ہے، اس کے تخلیقی ذہن کی تربیت، شعروادب کے نکھرے ہوئے ماحول میں ہوئی ہے۔ اس نے اپنے عہد کے بُلَند پایہ نعت کے شعراء کے ساتھ قدیم اساتذہ ء اردو کی فکر و فن سے بھی مولانا حسرتؔ موہانی کی طرح فیض اُٹھایا ہے۔ بقول حسرتؔ،” طبعِ حسرتؔ نے اُٹھایا ہے ہر استاد سے فیض” ۔۔ نہ صرف فیض اُٹھایا ہے، بلکہ اِس فیضان کو اپنی تخلیقات میں اُنہوں نے سمو کر، اردو کی نعتیہ شاعری کو اور اس کی تاریخ کو حسین و وقیع اور مُعتبر اور مُوقّر بنادیا ہے۔


جیسا کہ عرض کیا گیا، اور جیسا کہ خود شاعر کو احساس و اعتراف ہے کہ نعت گوئی کا تعلّق فکر و فن اور علم و ہُنر سے زیادہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہِ وسلّم کی ذاتِ گرامی سے عقیدت و مُحبّت سے ہے۔ جب تک ایک مومنِ باصفا کا دل بادۂ حُبِّ محمدؐ سے سرشار نہ ہو، آنکھوں میں روضہء رسول صلی اللہ علیہِ وسلّم کو دیکھنے کی تڑپ نہ ہو،ا ور قَلب و ذہن میں آستانۂ رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلّم پر حاضری دینے کی آرزومندی اور جذبۂ شوقِ حضوری میں مدینۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلّم میں سانس لینےکی تمنّائے بیتاب موجود نہ ہو، نعت کا نُزول نہیں ہوتا۔ یہ وہ معاملاتِ حُبِّ رَسُول ؐ ہیں، جو ایک سچّے شاعر کو غمِ روزگار و غمِ ذات سے بے پروا و بے نیاز رکھ کر وادیٔ حمد و نعت میں گُم کردیتے ہیں۔ خود اخگرؔ کے لفظوں میں ؂


غمِ دُنیا نہ غمِ دل ہیں مسائل میرے

حمدِ رب، نعتِ مُحمّدؐ ہیں مشاغل میرے


تحفہ یہ نعت گوئی کا کچھ کم نہیں کہ ہم

شیرینیٔ زباں کے سزاوار ہوگئے


اک چراغِ عزمِ طیبہ چاہیے

کیا سفر اور کیا سفر کا فاصلہ


علمِ قُرآں سہل ہے، اور سہل تر علمِ حدیث

سر بہ سر تفسیرِ قُرآں ہیں سُخن ہائے رسولؐ


ہر وقت ہے اب مَنظرِ طیبہ مرے آگے

وہ اُٹھ گیا، حائل تھا جو پردا مِرے آگے


دل وہ ہے کہ جس میں ہو تمنّائے مدینہ

سر وہ ہے کہ جس سر میں ہو سَودائے مدینہ


دل دیکھتا رہتا ہے مدینے کے یہی خواب

جب آنکھ مَیں کھولوں، نظر آجائے مدینہ


اب جو خوشبو سے مُعطّر ہے صباکا دامن

خاک تھا آپؐ کے دامن کی ہوا سے پہلے



شاعر کے قلب و نظر، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کے روضۂ مبارک کی زیارت کے لیے کیسے بیتاب ہیں، دل و جاں پر اُن کے فراق میں کیا گزری ہے، اور ان کے جسم کا رُواں رُواں دیدارِ روضۂ اقدس صلی اللہ علیہ وسلّم کے لیے کیسا بے چین و مضطرب ہے، اس کا اندازہ میرے بیان سے نہ ہوسکے گا۔ اس کے لیے شاعر کے اضطرابِ قلب و رُوح کا حال خود شاعر کی زبان سے سُنیے، اور حُسنِ بیاں کوسراہتے ہوئے شاعر کے اشتیاقِ بے پایاں اور اضطرابِ بے کراں کی مُصوّری کی داد دیجیے ؂


ہر گھڑی چشمِ تصوّر سے مدینہ دیکھوں

کاش آجائے مُجھے یوں بھی نظّارہ کرنا


توفیقِ نعت گوئی ہے اللہ کا کرم

کاوش یہ ہے ہُنر کی، نہ زورِ بیاں کی ہے


تمام عمر میں نعت و سلام لکھتا رہوں

تمام عمر اسی میں تمام ہوجائے



نعت گوئی اور مَنقَبَت نویسی کے حوالہِ سے حنیف اخگرؔ کا ایک اور کمالِ فن قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے صرف یہی نہیں کہ اپنی طبع زاد زمینوں اور بحروں میں قابلِ صَد تحسین اشعار کہے ہیں، بلکہ اساتذۂ قدیم اور نہایت معروف شعرأ کی زمینوں اور بحروں میں بھی کامیاب نعتیں کہہ کر اپنی قادرالکلامی اور غیر معمولی شاعرانہ صلاحیّتوں کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ چند نمونے دیکھیے ؂


آنکھ ہر لمحہ برستی کبھی ایسی تو نہ تھی

دیکھ کر اور ترستی کبھی ایسی تو نہ تھی

اس جہاں میں بھی مُیسّر نہ ہوثانی جس کا

ان سے پہلے کوئی ہستی کبھی ایسی تو نہ تھی


سنتا ہوں جب روایتِ شقّ القمر کہیں

پاتا ہوں اپنے سینے میں رشکِ قمر کو میں

دیکھوں مہ و نجومِ مُحمّدؐ کے نقشِ پا

اور آفتاب ذرّۂ گردِ سفر کو میں


حُکمِ سرکارؐ کا مُحتاج رہا اپنا قلم

نعت ہم لکھ نہ سکے اُن کی رضا سے پہلے

اذنِ سرکارؐ کے پابند تھے ورنہ اخگرؔ

ہم مدینے میں پُہنچ جاتے صبا سے پہلے


مِرا شوق نعتِ رسولؐ ہے، کبھی سوز میں کبھی ساز میں

کبھی نذرِ نغمۂ جاں کروں، کبھی دل شعورِ نیاز میں

کوئی حدِّ سوزِ دروں نہیں، مُجھے چین ہے نہ سَکُوں کہیں

بہِ کمالِ عشقِ نبیؐ کہاں، کوئی بات صیغۂ راز میں



یہ اشعار اخگرؔ کی جن نعتوں سے لیے گئے ہیں، وہ علیٰ الترتیب، بہادر شاہ ظفرؔ دہلوی، اسد اللہ خاں غالبؔ دہلوی، شوکت علی خان خانیؔ دہلوی، اور علاّمہ اقبال کی مقبول ترین زمینوں اور بحروں میں ہیں۔ اور کیسی کامیاب اور با اثر ہیں، اس کا صحیح اندازہ اخگرؔ کی پُوری نعتوں کے مطالعے سے ہی مُمکن ہے۔ مُجھے تو اس جگہ صرف اس قدر کہنا ہے کہ اخگرؔ کا کمالِ شعر گوئی، صرف غزلیہ اور نظمیہ شاعری تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان کی حمدیہ، نعتیہ، اور منقبتیہ شاعری بھی حد درجہ خوبصورت و پُرکیف ہے۔ اور اسی لیے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اخگرؔ کا تازہ نعتیہ مجموعہ “خُلقِ مُجسّم”، اردو نعت گوئی کی تاریخ میں محض ایک اضافہ نہیں، بلکہ نہایت حسین و وقیع اور مَوقّر و مُعتبر اضافےکی حیثیت رکھتا ہے۔


میں انہیں اس غیر معمولی کامیابی پر دلی مبارکباد دیتا ہوں۔


٭






No comments:

Site Design and Content Management by: Justuju Media

Site Design and Content Management by: Justuju Media
Literary Agents & Biographers: The Legend of Akhgars Project.- Click Logo for more OR eMail: Justujumedia@gmail.com